میعادِ سماعت
Limitation
عدالتی طریقۂ کار
میعادِ سماعت وہ قانونی مدت ہے جس کے اندر دعویٰ، اپیل یا درخواست دائر کرنا لازم ہے، ورنہ عدالت عموماً اسے سننے سے انکار کر دیتی ہے۔
میعادِ سماعت کا آسان مطلب کیا ہے؟
مدت کا حساب کسی مقررہ واقعے سے ہوتا ہے، جیسے خلاف ورزی یا فیصلے کی تاریخ۔ مثلاً قانونِ میعاد کے تحت دیے گئے قرض کا دعویٰ تین سال کے اندر دائر کرنا ہوتا ہے، اور ضابطہ دیوانی کے تحت ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں اپیل تیس دن کے اندر۔ پنجاب میں قرضوں سے متعلق دعوے پنجاب لونز لمیٹیشن ایکٹ 1904 کے تحت آتے ہیں، اس لیے وہاں مدت مختلف ہو سکتی ہے۔ معقول وجہ ہو تو عدالت تاخیر سے دائر اپیل یا درخواست قبول کر سکتی ہے۔
میعادِ سماعت کا ذکر کب سنائی دے گا؟
دعویٰ میعاد گزرنے کے بعد دائر ہونے کی وجہ سے میعاد سے باہر قرار دے کر خارج کر دیا گیا۔
میعادِ سماعت پر کون سا قانون لاگو ہوتا ہے؟
قانون میعاد سماعت 1908؛ دفعہ 5 (مدت میں توسیع)؛ پنجاب میں قرضوں کے دعوے: پنجاب لونز لمیٹیشن ایکٹ 1904
کون سی متعلقہ اصطلاحات جاننا مفید ہے؟
میعادِ سماعت کے بارے میں عام سوالات
- کیا میعاد گزرنے کے بعد مقدمہ دائر ہو سکتا ہے؟
- عدالت عموماً اسے میعاد سے باہر قرار دے کر خارج کر دیتی ہے۔ بعض صورتوں میں معقول وجہ پر تاخیر معاف ہو سکتی ہے یا میعاد بعد میں شروع ہو سکتی ہے؛ ان میں سے کچھ لاگو ہوتا ہے یا نہیں، یہ حقائق اور دعوے پر لاگو قانون پر منحصر ہے۔