قابلِ دست اندازی جرم

Cognizable offence

فوجداری

قابلِ دست اندازی جرم سنگین جرم ہے جس میں پولیس ایف آئی آر درج کر سکتی اور وارنٹ کے بغیر گرفتار کر سکتی ہے۔

قابلِ دست اندازی جرم کا آسان مطلب کیا ہے؟

قتل، ڈکیتی اور زنا جیسے جرائم قابلِ دست اندازی ہیں، اس لیے پولیس وارنٹ کے بغیر گرفتار کر سکتی اور مجسٹریٹ کے حکم کے بغیر تفتیش کر سکتی ہے۔ کوئی جرم قابلِ دست اندازی ہے یا نہیں، یہ ضابطے کے دوسرے شیڈول یا کسی اور قانون میں درج ہوتا ہے۔

قابلِ دست اندازی جرم کا ذکر کب سنائی دے گا؟

قتل قابلِ دست اندازی جرم ہے، اس لیے پولیس نے فوراً ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔

قابلِ دست اندازی جرم پر کون سا قانون لاگو ہوتا ہے؟

دفعات 4(1)(f)، 154 اور 156 اور دوسرا شیڈول، مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898

کون سی متعلقہ اصطلاحات جاننا مفید ہے؟

تمام قانونی اصطلاحات