سائبر قانون
Cyber law
سائبر قانون کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے جرائم، جیسے ہیکنگ، آن لائن فراڈ اور ہراسانی، سے متعلق ہے۔
پاکستان میں سائبر قانون قانون کیا ہے؟
الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا ایکٹ 2016 (پیکا) ان جرائم کی تعریف کرتا ہے۔ 2025 کی ترمیم کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ان کی تحقیقات کرتی ہے، جس نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جگہ لی ہے، اور وفاقی حکومت مقدمات سننے والی عدالتیں مقرر کرتی ہے۔
اہم قوانین کون سے ہیں؟
- الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا ایکٹ (2016)
یہ مقدمات کون سی عدالتیں سنتی ہیں؟
کون سی اصطلاحات سامنے آئیں گی؟
عام سوالات
- پیکا کیا ہے؟
- الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا ایکٹ 2016، پاکستان کا بنیادی سائبر کرائم قانون۔
- سائبر جرم کی اطلاع کہاں دوں؟
- نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو، جو پیکا کی 2025 میں ترمیم شدہ دفعہ 29 کے تحت تحقیقاتی ایجنسی ہے۔ مقدمہ دفعہ 44 کے تحت مقرر کردہ عدالت میں چلتا ہے، اور سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف تیس دن میں ہائی کورٹ میں اپیل ہوتی ہے (دفعہ 47)۔