آرٹیکل 199: ہائی کورٹ کا رِٹ کا دائرہ اختیار
199
آرٹیکل 199 ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن کی بنیاد ہے۔ اگر کوئی سرکاری ادارہ یا عہدے دار بغیر قانونی اختیار کے کام کرے، کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا جائے، یا کوئی بنیادی حق متاثر ہو اور قانون میں کوئی اور مناسب علاج نہ ہو، تو ہائی کورٹ معاملہ درست کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ چھبیسویں ترمیم (شق 1-اے) کے بعد ہائی کورٹ ازخود (سوموٹو) کارروائی نہیں کر سکتی اور درخواست میں مانگی گئی حد سے آگے نہیں جا سکتی۔ شق (3) کے تحت مسلح افواج کے ارکان کے سروس معاملات میں رِٹ نہیں ہو سکتی۔ محصولات اور سرکاری املاک کے بعض معاملات میں عبوری حکم چھ ماہ بعد ختم ہو جاتا ہے الا یہ کہ بڑھایا جائے (شق 4-اے)، اور جس مقدمے میں عبوری حکم دیا گیا ہو اس کا فیصلہ چھ ماہ میں ہونا چاہیے (شق 4-بی)۔ ستائیسویں ترمیم کے بعد ہائی کورٹ کے آرٹیکل 199 کے حکم کے خلاف اپیل وفاقی آئینی عدالت میں ہوتی ہے، اور صرف اس صورت میں جب وہ عدالت اپیل کی اجازت (لیو) دے (آرٹیکل 175-ایف(1)(ج))؛ کرایہ اور خاندانی مقدمات (سوائے سرپرستی کے) میں اپیل نہیں ہوتی۔
199 میں کیا لکھا ہے؟
خلاصہ: آرٹیکل 199 ہائی کورٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ جب قانون میں کوئی اور مناسب علاج موجود نہ ہو تو وہ (الف) وفاق، صوبے یا مقامی اتھارٹی کے امور سرانجام دینے والے شخص کو کسی غیر قانونی کام سے روکنے یا قانونی ذمہ داری ادا کرنے کا حکم دے، یا اس کے کسی اقدام کو بلا قانونی اختیار قرار دے؛ (ب) کسی زیرِ حراست شخص کو عدالت میں پیش کرنے یا کسی عہدے دار سے اس کے قانونی اختیار کی وضاحت کا حکم دے؛ اور (ج) بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے ہدایات جاری کرے۔ اس آرٹیکل میں مسلح افواج کے ارکان کے سروس معاملات پر پابندی، عبوری احکامات کی چھ ماہ کی حد، اور ہائی کورٹ کے ازخود (سوموٹو) اختیار پر پابندی (شق 1-اے، چھبیسویں ترمیم) بھی شامل ہیں۔ (یہ اردو خلاصہ ہے، لفظ بہ لفظ ترجمہ نہیں؛ سرکاری متن انگریزی میں ہے۔)کون سی عدالتیں شامل ہیں؟
- لاہور ہائی کورٹ
- سندھ ہائی کورٹ
- پشاور ہائی کورٹ
- بلوچستان ہائی کورٹ
- اسلام آباد ہائی کورٹ
- وفاقی آئینی عدالت پاکستان
- سپریم کورٹ آف پاکستان