آرٹیکل 184: سابقہ طور پر سپریم کورٹ کا ابتدائی دائرہ اختیار (اب حذف)
184 (omitted); 175E
ستائیسویں ترمیم سے پہلے آرٹیکل 184 سپریم کورٹ کو دو خاص اختیارات دیتا تھا: وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات کا فیصلہ، اور عوامی اہمیت کے بنیادی حقوق کے معاملات کی براہِ راست سماعت (184(3))، جو زیادہ تر ازخود (سوموٹو) مقدمات کی بنیاد تھی۔ ستائیسویں ترمیم نے آرٹیکل 184 حذف کر دیا۔ اب یہ اختیارات آرٹیکل 175-ای کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہیں: حکومتوں کے درمیان تنازعات اور عوامی اہمیت کے بنیادی حقوق کے معاملات، جن میں عدالت صرف تب کارروائی کر سکتی ہے جب کوئی شخص درخواست دائر کرے۔ اگر کسی پرانی دستاویز یا مقدمے میں آرٹیکل 184(3) کا ذکر ہو تو 13 نومبر 2025 کے بعد کے معاملات میں اسے آرٹیکل 175-ای(3) پڑھیں؛ زیرِ التوا 184 کے مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکے ہیں (آرٹیکل 175-ای(4))۔
184 (omitted); 175E میں کیا لکھا ہے؟
خلاصہ: 184۔ [حذف شدہ]
آرٹیکل 184 آئین (ستائیسویں ترمیم) ایکٹ 2025 (ایکٹ نمبر XXXII بابت 2025)، دفعہ 29 کے ذریعے حذف کر دیا گیا، جو 13 نومبر 2025 کو نافذ ہوئی۔ اس کا سابقہ مفہوم: (1) دو یا زیادہ حکومتوں (وفاقی اور صوبائی) کے درمیان تنازع میں سپریم کورٹ کا خصوصی ابتدائی دائرہ اختیار، جس میں صرف اعلانی (declaratory) فیصلے دیے جاتے تھے؛ (3) آرٹیکل 199 سے قطع نظر، عوامی اہمیت کے ایسے سوال پر جو باب 1 (بنیادی حقوق) کے نفاذ سے متعلق ہو، سپریم کورٹ کا آرڈر دینے کا اختیار، اس شرط کے ساتھ کہ درخواست کے مندرجات سے آگے ازخود (سوموٹو) حکم نہیں دیا جا سکتا (چھبیسویں ترمیم)۔ اب یہ اختیارات آرٹیکل 175-ای کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہیں۔ (یہ اردو خلاصہ ہے، لفظ بہ لفظ ترجمہ نہیں۔)